وٹس ایپ کیوں فروخت ہورہی ہے؟ تحقیق کا مطالبہ

مارک زکربرگ کی کمپنی فیس بک وٹس ایپ کو تقریباً 19 ارب ڈالر میں خریدنے والی ہے۔

فیس بک کی جانب سے موبائل میسجنگ سروس وٹس ایپ کی خرید کے خلاف عوام کی نجی معلومات کے حوالے سے حقوق پر کام کرنے والے متعدد گروپ آواز اٹھا رہے ہیں۔
اس فروخت کے مخالفین چاہتے ہیں کہ امریکی حکام اس فروخت کو اس وقت تک روکے رکھیں جب تک فیس بک یہ ظاہر نہ کر دے کہ وہ وٹس ایپ کے صارفین کی ذاتی معلومات کے ساتھ کیا کرنے والی ہے۔


تاہم فیس بک کا کہنا ہے کہ خرید کے بعد بھی وٹس ایپ ایک علیحدہ کمپنی کے طور پر کام کرے گی اور وہ معلومات کے حوالے سے موجودہ معاہدوں کا احترام کریں گی جس کے تحت تشہیری مقاصد کے لیے صارفین کی معلومات جمع نہیں کی جا سکتی۔
امریکہ میں وفاقی تجارتی کمیشن کو دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ وٹس ایپ نے اپنے صارفین کی تعداد میں اضافہ اس وعدے کے ذریعے کیا تھا کہ صارفین کی معلومات تشہیری مقاصد کے لیے جمع نہیں کیں جائیں گی۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ صارفین نے وٹس ایپ کو اپنی تفصیلی معلومات اور نجی پیغامات فراہم کیے ہیں اور فیس بک اکثر ایسی معلومات کو تشہیری مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔
درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ اس وجہ سے وٹس ایپ کے صارفین کے ساتھ کیا گیا معاہدہ ٹوٹ جائے گا اور یہ ایک غیر منصفانہ اور دھوکے باز تجارتی عمل ہے، اسی لیے کمیشن کو اس کی تحقیقات کرنی چاہیئیں۔
گروپ نے کمیشن سے کہا ہے کہ وہ خاص طور پر اس فروخت کے سلسلے میں ہونے والی معاہدے میں صارفین کے موبائل نمبر اور میٹا ڈیٹا کے حوالے سے طے پانے والی شرائط کی جانچ پڑتال کریں۔
فیس بک سماجی رابطوں کی دنیا کی مقبول ترین ویب سائٹ ہے اور اس کے ایک اعشاریہ دو ارب صارفین ہیں۔ فیس بک کی آمدنی کا بڑا حصہ تشہیری مہمات سے آتا ہے جن میں اشتہاروں کو صارف کی عمر، جنس اور دیگر معلومات کے ذریعے مخصوص انداز میں دکھایا جاتا ہے۔


Share on Google Plus

About بلال احمد

Hi my name is Mian Muhammad Ashfaq and I am a free lancer blogger. My home city is Pasrur Pakistan and now a days I am doing my job in Kingdom of Saudi Arabia. For more details about me fill the contact us form and send me a mail or follow on facebook www.fb.com/Mian.Ashfaq0